اتوار، 7 جون، 2015

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں


زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے
اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے
جس پرمیں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے
تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے
میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے
میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں
میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں سے چرایا ہے تجھے
پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں میں چراغ
جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے
تجھ کو چھو لوں تو پھر اے جانِ تمنا 
مجھ کودیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے
تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا
زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا.
قتیل شفائی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال زریں
نامور شخصیات کی سنہری باتیں
ایک بزرگ تھے.. ملک میں قحط پڑا ھوا تھا ' خلقت بھوک سے مر رھی تھی.. ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رھے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے..
بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ھنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رھا تھا.. بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے.. غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رھے ھیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رھی ھیں..
غلام نے بزرگ سے کہا.. " آپ اللہ والے لگتے ھیں.. کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ھوں..؟ "بزرگ بولے.. " تو کون ھے..؟ "
غلام نے جواب دیا.. " میں فلاں رئیس کا غلام ھوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ھیں.. کیا آپ سمجھتے ھیں کہ جو غیروں کا ' اس قحط سالی میں پیٹ بھر رھا ھے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا..???? جائیں.. آپ اپنا کام کریں.. آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی.. "
بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے.. بولے..
" یا اللہ ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا.. اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ھے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ھوں یہ مانتے ھوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ھے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ھے میں کتنا کم ظرف ھوں کہ حالات کا اثر لے کر نا امید ھو گیا ھوں..
بے شک میں گناہ گار ھوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ھوں اور اپنے گناھوں کے معافی مانگتا ھوں
حضرت علامہ ڈاكٹر محمد اقبال رحمتہ علیہ ایك عظیم فلسفی شاعر جنہیں نہ صرف برصغیر پاك و ہند میں جانا جاتا ہے بلكہ آپ كی فكری شاعری كی پوری دنیا معترف ہے . مذید پڑھیے

اردو کے ایک سو مشہور اشعار۔ نامور شعرا کے زبان عام اشعار کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
انٹرنیٹ اور موبائل پر جدید تحقیق پر مبنی تازہ ترین معلومات پڑھنے كے لیے یہاں كلك كیجیے

كركٹ

كركٹ
پاكستانی كركٹ بلندی اور زوال تجزیے اور تبصرے