گل کو شبنم سے آگ لگ جائے
موج کو رم سے آگ لگ جائے
بزم تقدیس کی فضاؤں سے
حسن برہم کو آگ لگ جائے
ایسے زخموں کو کیا کرے کوئی
جن کو مرہم سے آگ لگ جائے
کاش اے زندگی کی رقاصہ
تیری چھم چھم سے آگ لگ جائے
دل کی بیتاب آہٹوں میں ندیم
زلف برہم سے آگ لگ جائے
چاندنی کے سہاگ میں ساغر
چشم پرنم سے آگ لگ جائے
ساغر صدیقی
***
شعلہ سامان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہائے انسان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
حسن بت ساز کھلونوں کا پرانا خالق
عشق انجان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہم بہرحال حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں
دل ہے نادان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
جو تیرے غم کی ندامت نہ اُٹھا سکتا ہو
وہ ہشیمان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
موجِ گریہ سے لپٹ جاتے ہیں وعدے اُن کے
غم کا طوفان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
چشمِِ ساغر کو نہیں خواہشِ جنت واعظ
تیرا ایمان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
***
دستُور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپتے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زردار توقّع رکھتا ھے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑھتی دیکھی ھے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ھے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ھے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
***
میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوۓ تھے جام پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
دنیاۓ حادثات ہے اک دردناک گیت
دنیاۓ حادثات سے گھبرا کے پی گیا
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
***
نگار معیشت لہو رو رہی ہے
تصور کی عظمت لہو رو رہی ہے
شگوفوں کی عزت پہ چھا پےپڑے ہیں
چمن کی لطافت لہو رو رہی ہے
پلا ساقیا کوئی جام غزالی
بھٹکتی بصیرت لہو رو رہی ہے
فقیروں کے اخلاص کی بے زبانی
بروے جہالت لہو رو رہی ہے
نہ سجدے نہ سجدوں کی تعبیر ساغر
جبیں شہادت لہو رو رہی ہے
موج کو رم سے آگ لگ جائے
بزم تقدیس کی فضاؤں سے
حسن برہم کو آگ لگ جائے
ایسے زخموں کو کیا کرے کوئی
جن کو مرہم سے آگ لگ جائے
کاش اے زندگی کی رقاصہ
تیری چھم چھم سے آگ لگ جائے
دل کی بیتاب آہٹوں میں ندیم
زلف برہم سے آگ لگ جائے
چاندنی کے سہاگ میں ساغر
چشم پرنم سے آگ لگ جائے
ساغر صدیقی
***
شعلہ سامان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہائے انسان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
حسن بت ساز کھلونوں کا پرانا خالق
عشق انجان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
ہم بہرحال حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں
دل ہے نادان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
جو تیرے غم کی ندامت نہ اُٹھا سکتا ہو
وہ ہشیمان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
موجِ گریہ سے لپٹ جاتے ہیں وعدے اُن کے
غم کا طوفان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
چشمِِ ساغر کو نہیں خواہشِ جنت واعظ
تیرا ایمان کھلونوں سے بہل جاتا ہے
***
دستُور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپتے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زردار توقّع رکھتا ھے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑھتی دیکھی ھے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ھے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ھے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
***
میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوۓ تھے جام پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
دنیاۓ حادثات ہے اک دردناک گیت
دنیاۓ حادثات سے گھبرا کے پی گیا
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں اس کا گلہ ہی کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کہ پی لیجیے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
***
نگار معیشت لہو رو رہی ہے
تصور کی عظمت لہو رو رہی ہے
شگوفوں کی عزت پہ چھا پےپڑے ہیں
چمن کی لطافت لہو رو رہی ہے
پلا ساقیا کوئی جام غزالی
بھٹکتی بصیرت لہو رو رہی ہے
فقیروں کے اخلاص کی بے زبانی
بروے جہالت لہو رو رہی ہے
نہ سجدے نہ سجدوں کی تعبیر ساغر
جبیں شہادت لہو رو رہی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں