ہفتہ، 13 جون، 2015

دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے​ .​​اسداللہ خاں غالب ​

اسداللہ خاں غالب ​
دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے​
آخر اِس درد کی دوا کیا ہے​
ہم ہیں مُشتاق اور وہ بیزار​
یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے​
میں بھی منْہ میں زبان رکھتا ہوں​
کاش پُوچھو، کہ مُدّعا کیا ہے​
جب کہ تُجھ بِن نہیں کوئی موجُود​
پھر یہ ہنگامہ، اے خُدا کیا ہے​
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں​
غمزہ وعشوہ و ادا کیا ہے​
سبزہ و گُل کہاں سے آئے ہیں​
ابْر کیا چیز ہے، ہَوا کیا ہے​
ہم کو اُن سے وفا کی ہے اُمیّد​
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے​
ہاں بَھلا کر تِرا بَھلا ہو گا​
اور درویش کی صدا کیا ہے​
جان تم پر نِثار کرتا ہوں​
میں نہیں جانتا دُعا کیا ہے​
میں نے مانا کہ کچُھ نہیں غالب​
مُفت ہاتھ آئے تو بُرا کیا ہے​

1 تبصرہ:

  1. Free Slingo Welcome Bonus - Shootercasino クイーンカジノ クイーンカジノ 온라인카지노 온라인카지노 60superlotto plus dec 2 2020 superlotto plus dec 2 2020

    جواب دیںحذف کریں

اقوال زریں
نامور شخصیات کی سنہری باتیں
ایک بزرگ تھے.. ملک میں قحط پڑا ھوا تھا ' خلقت بھوک سے مر رھی تھی.. ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رھے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے..
بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ھنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رھا تھا.. بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے.. غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رھے ھیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رھی ھیں..
غلام نے بزرگ سے کہا.. " آپ اللہ والے لگتے ھیں.. کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ھوں..؟ "بزرگ بولے.. " تو کون ھے..؟ "
غلام نے جواب دیا.. " میں فلاں رئیس کا غلام ھوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ھیں.. کیا آپ سمجھتے ھیں کہ جو غیروں کا ' اس قحط سالی میں پیٹ بھر رھا ھے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا..???? جائیں.. آپ اپنا کام کریں.. آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی.. "
بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے.. بولے..
" یا اللہ ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا.. اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ھے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ھوں یہ مانتے ھوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ھے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ھے میں کتنا کم ظرف ھوں کہ حالات کا اثر لے کر نا امید ھو گیا ھوں..
بے شک میں گناہ گار ھوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ھوں اور اپنے گناھوں کے معافی مانگتا ھوں
حضرت علامہ ڈاكٹر محمد اقبال رحمتہ علیہ ایك عظیم فلسفی شاعر جنہیں نہ صرف برصغیر پاك و ہند میں جانا جاتا ہے بلكہ آپ كی فكری شاعری كی پوری دنیا معترف ہے . مذید پڑھیے

اردو کے ایک سو مشہور اشعار۔ نامور شعرا کے زبان عام اشعار کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
انٹرنیٹ اور موبائل پر جدید تحقیق پر مبنی تازہ ترین معلومات پڑھنے كے لیے یہاں كلك كیجیے

كركٹ

كركٹ
پاكستانی كركٹ بلندی اور زوال تجزیے اور تبصرے