بدھ، 1 جولائی، 2015

امجد اسلام امجد کی نظمیں

امجد اسلام امجد کی نظمیں
موسم اچھا ہے
رنگ دھنک نے بکھرائے ہیں موسم اچھا ہے
گئے زمانے یاد آئے ہیں موسم اچھا ہے
آنکھیں ، چہرے ، خوشبو، وعدے ، آنسو ، یادیں ،پھول
ایک اک کر کے لوٹ آئے ہیں موسم اچھا ہے
شامِ شفق کی سیر بہانے تم بھی آ جاؤ
دوست پُرانے سب آئے ہیں موسم اچھا ہے
امجد اسلام امجد


کہتا ہے دَر پن
میرے جیسا بن!
تار یکی کی موت!
ایک نحیف کِرن
محنت اپنا مال
وقت ، پریا دَھن
بات نہ کرنے سے
بڑھتی ہے اُلجھن
اپنے دِل جیسا !
کوئی نہیں دشمن
دُنیا۔! لو ٹا دے
میرا اپنا پن
جُھولے جی اُٹّھے
جاگ پڑے جامن
روز وہی قِصّہ!
روز وہی اُلجھن!
صدیاں لُوٹ گئی
پائل کی چَھن چَھن
یہ تو برسے گا
ساون ہے، ساون!
سارے خاک سَمان
تَن اور مَن اور دَھن
اپنوں ہی سے تو
ہوتی ہے اَن بَن
سب سے اچّھا ہے
اپنا گھر آنگن!
پیاس بڑی ہے یا
سونے کا برتن؟
کیا اُفتاد پڑی!
لگتا نہیں مَن
آدم زاد نہیں ،
بستی ہے یا بَن!
کیسا بھی ہو رُوپ!
مٹی ہے مدفن
سَکّے کے دو رُخ
بِرہن اور دُلہن
دھوکہ دیتے ہیں
اُجلے پیرا ہن
راہ میں کِھلتا پُھول
بیوہ کا جوبن
دونوں جُھوٹے ہیں
ساجن اور سَاون
آہٹ کِس کی ہے
تیز ہُوئی دھڑکن
اُتنی خواہش کر
جِتنا ہے دامن
ہم تم دونوں ہیں
دَھرتی اور ساون
عکس بنے کیسے؟
دُھند لا ہے درپن
زیر آب ہُوئے
خوابوں کے مسکن
ٹھر گیا ہے کیوں!
آنکھوں میں ساون !

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال زریں
نامور شخصیات کی سنہری باتیں
ایک بزرگ تھے.. ملک میں قحط پڑا ھوا تھا ' خلقت بھوک سے مر رھی تھی.. ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رھے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے..
بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ھنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رھا تھا.. بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے.. غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رھے ھیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رھی ھیں..
غلام نے بزرگ سے کہا.. " آپ اللہ والے لگتے ھیں.. کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ھوں..؟ "بزرگ بولے.. " تو کون ھے..؟ "
غلام نے جواب دیا.. " میں فلاں رئیس کا غلام ھوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ھیں.. کیا آپ سمجھتے ھیں کہ جو غیروں کا ' اس قحط سالی میں پیٹ بھر رھا ھے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا..???? جائیں.. آپ اپنا کام کریں.. آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی.. "
بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے.. بولے..
" یا اللہ ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا.. اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ھے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ھوں یہ مانتے ھوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ھے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ھے میں کتنا کم ظرف ھوں کہ حالات کا اثر لے کر نا امید ھو گیا ھوں..
بے شک میں گناہ گار ھوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ھوں اور اپنے گناھوں کے معافی مانگتا ھوں
حضرت علامہ ڈاكٹر محمد اقبال رحمتہ علیہ ایك عظیم فلسفی شاعر جنہیں نہ صرف برصغیر پاك و ہند میں جانا جاتا ہے بلكہ آپ كی فكری شاعری كی پوری دنیا معترف ہے . مذید پڑھیے

اردو کے ایک سو مشہور اشعار۔ نامور شعرا کے زبان عام اشعار کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
انٹرنیٹ اور موبائل پر جدید تحقیق پر مبنی تازہ ترین معلومات پڑھنے كے لیے یہاں كلك كیجیے

كركٹ

كركٹ
پاكستانی كركٹ بلندی اور زوال تجزیے اور تبصرے