Gazliyat


غزلیات 

یہاں پر نامور شعرا کی غزلیں پیش کی جائں گی اگر آپ کی کوئی پسندیدہ غزل ہے تو کومنٹ میں لکھ دیجیے ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ احباب کے لیے پیش کریں گے
***
 حضرت  علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ
مرزا اسد اللہ خاں غالب
دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
یوسف مصر تمنا تیرے جلووں کے نثار
میری بیداریوں کو خواب زلیخا نہ بنا
تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت
ہم جہاں میں تصویر لئے پھرتے ہیں تیری
ذوق بربادی دل کو بھی نہ کر تو برباد
دل کی اجڑی ہوئی بگڑی ہوئی دنیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
تو ملا بھی ہے تو جدا بے ہے تیرا کیا کہنا
تو صنم بے ہے تو خدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
یہ تمنا ہے کے آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مانوس تمنا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
جو بہار ائی مرے گلشن جاں سے ائی
خاک کے ڈھیر میں یہ بات کہاں سے ائی
نگاہ ناز سے پوچھے یہ کسی دن یہ زہیں
تو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
شاعر بہزاد لکھنوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال زریں
نامور شخصیات کی سنہری باتیں
ایک بزرگ تھے.. ملک میں قحط پڑا ھوا تھا ' خلقت بھوک سے مر رھی تھی.. ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رھے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے..
بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ھنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رھا تھا.. بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے.. غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رھے ھیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رھی ھیں..
غلام نے بزرگ سے کہا.. " آپ اللہ والے لگتے ھیں.. کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ھوں..؟ "بزرگ بولے.. " تو کون ھے..؟ "
غلام نے جواب دیا.. " میں فلاں رئیس کا غلام ھوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ھیں.. کیا آپ سمجھتے ھیں کہ جو غیروں کا ' اس قحط سالی میں پیٹ بھر رھا ھے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا..???? جائیں.. آپ اپنا کام کریں.. آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی.. "
بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے.. بولے..
" یا اللہ ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا.. اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ھے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ھوں یہ مانتے ھوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ھے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ھے میں کتنا کم ظرف ھوں کہ حالات کا اثر لے کر نا امید ھو گیا ھوں..
بے شک میں گناہ گار ھوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ھوں اور اپنے گناھوں کے معافی مانگتا ھوں
حضرت علامہ ڈاكٹر محمد اقبال رحمتہ علیہ ایك عظیم فلسفی شاعر جنہیں نہ صرف برصغیر پاك و ہند میں جانا جاتا ہے بلكہ آپ كی فكری شاعری كی پوری دنیا معترف ہے . مذید پڑھیے

اردو کے ایک سو مشہور اشعار۔ نامور شعرا کے زبان عام اشعار کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
انٹرنیٹ اور موبائل پر جدید تحقیق پر مبنی تازہ ترین معلومات پڑھنے كے لیے یہاں كلك كیجیے

كركٹ

كركٹ
پاكستانی كركٹ بلندی اور زوال تجزیے اور تبصرے