صفحات

جمعہ، 22 مئی، 2015

نامور شعرا کی نامور غزلیں


تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
یوسف مصر تمنا تیرے جلووں کے نثار
میری بیداریوں کو خواب زلیخا نہ بنا
تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت
ہم جہاں میں تصویر لئے پھرتے ہیں تیری
ذوق بربادی دل کو بھی نہ کر تو برباد
دل کی اجڑی ہوئی بگڑی ہوئی دنیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنا یا تو میں دیوانہ بنا
تو ملا بھی ہے تو جدا بے ہے تیرا کیا کہنا
تو صنم بے ہے تو خدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
یہ تمنا ہے کے آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مانوس تمنا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
جو بہار ائی مرے گلشن جاں سے ائی
خاک کے ڈھیر میں یہ بات کہاں سے ائی
نگاہ ناز سے پوچھے یہ کسی دن یہ زہیں
تو نے کیا کیا نہ بنایا کوئی کیا کیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
شاعر بہزاد لکھنوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں