صفحات

جمعہ، 22 مئی، 2015

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا​



یار کو ہم نے جا بجا دیکھا​
کہیں ظاہر کھیں چھپا دیکھا​
کہیں ممکن ہوا کہیں واجب​
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا​
کہیں بولا بلیٰ وہ کہہ کے الست​
کہیں بندہ کہیں خدا دیکھا​
کہیں بیگانہ وش نظر آیا​
کہیں صورت سے آشنا دیکھا​
کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں​
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا​
کہیں عابد بنا کہیں زاہد​
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا​
کہیں رقاص اور کہیں مطرب​
کہیں وہ ساز باجتا دیکھا​
کہیں وہ در لباسِ معشوقاں​
بر سرِ ناز اور ادا دیکھا​
کہیں عاشق نیاز کی صورت​
سینہ بریان و دل جلا دیکھا​

شاہ نیاز بریلوی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں