صفحات

منگل، 28 جولائی، 2015

راہ آسان ہو گئی ہوگی ۔ سیف الدین سیف کی منتخب غزلیں

راہ آسان ہو گئی ہوگی 
جان پہچان ہو گئی ہوگی​
موت سے تیری درد مندوں کی
مشکل آسان ہو گئی ہوگی ​
پھر پلٹ کر نگاہ نہیں‌آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی ​
تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا
خود پریشان ہو گئی ہوگی​
ان سے بھی چھین لو گے یاد اپنی 
جن کا ایمان ہو گئی ہوگی ​
دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ
ہاں میری جان ، ہو گئی ہوگی​
مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں
موت آسان ہو گئی ہوگی ​

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں