صفحات

ہفتہ، 13 جون، 2015

اشفاق احمد کی باتیں ۔ ایک مفکر ایک عہد ساز شخصیت


ہم نے کئی بیماریوں پر قابو پا لیا ھے ۔ یا کم ازکم انہیں محدود کر کے مقید کر دیا ہے ۔
لیکن اس صدی کی سب سے خطرناک بیماری وہ ہے کہ جب انسان اس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو خود کشی پر مائل ہو جاتا ہے۔ اپنے آپ کو تباہ کرنے کی تدبیریں کرنے لگتا ھے۔ اس بیماری کو کیا نام دوں ۔ کہ اس کو کوئی نام دیا جانا بہت ھی مشکل ھے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان کے دل کے اندر محبت کی باؤلی سوکھنے لگتی ھے تو یہ بیماری پیدا ھوتی ہے۔ اس دنیا میں سب سے بڑا افلاس محبت کی کمی ہے۔ جس شخص میں محبت کرنے کی صلاحیت ھی پیدا نہیں ہوئی وہ اپنے پرائیویٹ دوزخ میں ھر وقت جلتا رہتا ھے ۔ جو محبت کر سکتا ہےوہ جنت کے مزے لوٹتا ہے۔
لیکن محبت کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا اور اپنے نفس سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ اپنی انا کو کسی کے سامنے پامال کر دینا مجازی عشق ہےاور اپنی انا کو بہت سوں کے آگے پامال کر دینا عشقِ حقیقی ہے.
148اشفاق احمد147
"زاویہ 3 سے اقتباس"
اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی افسوس نہیں، لیکن اگر میں خود کو نہ جانوں اور نہ پہچانوں تو مجھے بہت افسوس ہوگا۔
اس دنیا میں تقریباً سبھی لوگ اپنے آپ کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
وہ اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے پہچانتے اور ان ہی کی نظر سے جانتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ زندگی تاریک سے تاریک تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔
تم اپنے ارد گرد کس طرح روشنی پھیلا سکتے ہو جب تم اپنے آپ کو ہی نہیں جانتے۔
(زاویہ 3 سے اقتباس)

3 تبصرے:

  1. ((آئینہ وقت)) تعمیر انسانیت کا ذریعہ
    تحریر:اشفاق احمد
    کتاب ”آئینہ وقت“ کےمصنف کو میں عرصہ پچیس سال سےجانتا ہوں۔ اور اس کےساتھ وقت کی ہر بنت سےگذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کےدرمیان نئےنئےچھاپےچھاپتی ہی۔ اور نئےنئےرنگ ابھارتی ہی۔ عنائیت کو میں نےاچھے، بری، تلخ، ترش،کھچاوٹ، کملاوٹ اور کرب و بلا کی کیفیتوں میں بھی دیکھا ہی۔ اس پر بوجھ بھی ڈالا ہی۔ اور اس کا بوجھ کبھی اٹھایا بھی ہےلیکن !
    عنائیت اللہ کےموجودہ روپ کا اشارہ مجھےماضی میں کبھی نہیں ملا تھا ۔ میرےوہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ کہ ایک روز جب گولڑہ موڑ پر پہنچےگا۔ تو اس پر ”آئینہ وقت“ جیسی کتاب وارد ہو جائےگی۔
    یوں تو مغربی طرز جمہوریت پر حضرت علامہ نےبھی بڑی شدید تنقید کی ہی۔ اور ملت اسلامیہ کی بڑی بڑی اور معتبر دینی جماعتوں نےبھی اس کےمنفی اثرات و آثار سےمسلمانان عالم کو آگاہ کیا ہی۔ لیکن جس سادگی ، صفائی، خلوص، اور دردمندی کےساتھ عنائیت اللہ نےاس بلائےبیدرماں کاتجزیہ کیا ہی۔ وہ ایک معمولی فہم و فراست رکھنےوالےذہن میں بھی بہ آسانی آ جاتا ہی۔ اس کی مزید وضاحت کےلئےآخر کےاکیس سوالوں میں ڈائیرکٹ ایکشن کی روح کارفرما ہی۔ یہ سوالات نہیں ہیں۔ ہماری معاشرتی ، ملی، سیاسی، دینی اور اقتصادی زندگی کےانڈیکیٹر ہیں۔
    جس طرح انسانی تاریخ میں بعض ایسےصحت مند موڑ موجود ہیں۔ جنہیں معمولی لوگوں ، معمولی کتابچوں، اور معمولی عملوں نےآنےوالی نسلوں کےلئےمستقل کر دیا ہی۔ اسی طرح مجھےلگتا ہی۔ کہ عنائیت اللہ کا ”آئینہ وقت“ بھی تعمیر انسانیت کےکسی عظیم منصوبےکےلئےڈائنا مائیٹ بن کر طاغوت کی ازلی بربادی کا سامان بن جائےگا۔
    ((اشفاق احمد))
    ٣ جولائی ٩٩٩١ ئ

    جواب دیںحذف کریں
  2. ((آئینہ وقت)) تعمیر انسانیت کا ذریعہ
    تحریر:اشفاق احمد
    کتاب ”آئینہ وقت“ کےمصنف کو میں عرصہ پچیس سال سےجانتا ہوں۔ اور اس کےساتھ وقت کی ہر بنت سےگذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کےدرمیان نئےنئےچھاپےچھاپتی ہی۔ اور نئےنئےرنگ ابھارتی ہی۔ عنائیت کو میں نےاچھے، بری، تلخ، ترش،کھچاوٹ، کملاوٹ اور کرب و بلا کی کیفیتوں میں بھی دیکھا ہی۔ اس پر بوجھ بھی ڈالا ہی۔ اور اس کا بوجھ کبھی اٹھایا بھی ہےلیکن !
    عنائیت اللہ کےموجودہ روپ کا اشارہ مجھےماضی میں کبھی نہیں ملا تھا ۔ میرےوہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ کہ ایک روز جب گولڑہ موڑ پر پہنچےگا۔ تو اس پر ”آئینہ وقت“ جیسی کتاب وارد ہو جائےگی۔
    یوں تو مغربی طرز جمہوریت پر حضرت علامہ نےبھی بڑی شدید تنقید کی ہی۔ اور ملت اسلامیہ کی بڑی بڑی اور معتبر دینی جماعتوں نےبھی اس کےمنفی اثرات و آثار سےمسلمانان عالم کو آگاہ کیا ہی۔ لیکن جس سادگی ، صفائی، خلوص، اور دردمندی کےساتھ عنائیت اللہ نےاس بلائےبیدرماں کاتجزیہ کیا ہی۔ وہ ایک معمولی فہم و فراست رکھنےوالےذہن میں بھی بہ آسانی آ جاتا ہی۔ اس کی مزید وضاحت کےلئےآخر کےاکیس سوالوں میں ڈائیرکٹ ایکشن کی روح کارفرما ہی۔ یہ سوالات نہیں ہیں۔ ہماری معاشرتی ، ملی، سیاسی، دینی اور اقتصادی زندگی کےانڈیکیٹر ہیں۔
    جس طرح انسانی تاریخ میں بعض ایسےصحت مند موڑ موجود ہیں۔ جنہیں معمولی لوگوں ، معمولی کتابچوں، اور معمولی عملوں نےآنےوالی نسلوں کےلئےمستقل کر دیا ہی۔ اسی طرح مجھےلگتا ہی۔ کہ عنائیت اللہ کا ”آئینہ وقت“ بھی تعمیر انسانیت کےکسی عظیم منصوبےکےلئےڈائنا مائیٹ بن کر طاغوت کی ازلی بربادی کا سامان بن جائےگا۔
    ((اشفاق احمد))
    ٣ جولائی ٩٩٩١ ئ

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت خوب رضوان یوسف صاحب ۔ سلامت رہیں ۔ بہت شکریہ

    جواب دیںحذف کریں