صفحات

بدھ، 27 مئی، 2015

جوش ملیح آبادی ۔ Josh maleh abadi غزلیں نظمیں اور شاعری

جوش ملیح آبادی

زُلفیں باندھیں، مگر بکھرتی ہی رہیں
گھڑیاں روکیں، مگر گزرتی ہی رہیں 
اُمید کا، رُخسار میں بھرتے رہے رنگ 
اور یاس کی جُھریاں ابھرتی ہی رہیں
جوش ملیح آبادی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں