جوش ملیح آبادی
زُلفیں باندھیں، مگر بکھرتی ہی رہیں
گھڑیاں روکیں، مگر گزرتی ہی رہیں
اُمید کا، رُخسار میں بھرتے رہے رنگ
اور یاس کی جُھریاں ابھرتی ہی رہیںجوش ملیح آبادی
گھڑیاں روکیں، مگر گزرتی ہی رہیں
اُمید کا، رُخسار میں بھرتے رہے رنگ
اور یاس کی جُھریاں ابھرتی ہی رہیںجوش ملیح آبادی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں