صفحات

اتوار، 31 مئی، 2015

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ


خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ
کیا ہے تو ن ے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زماں لا الہ الا اللہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں لا الہ الا اللہ
خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں 
مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں