یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کھیں چھپا دیکھا
کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا
کہیں بولا بلیٰ وہ کہہ کے الست
کہیں بندہ کہیں خدا دیکھا
کہیں بیگانہ وش نظر آیا
کہیں صورت سے آشنا دیکھا
کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسہ لئے گدا دیکھا
کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا
کہیں رقاص اور کہیں مطرب
کہیں وہ ساز باجتا دیکھا
کہیں وہ در لباسِ معشوقاں
بر سرِ ناز اور ادا دیکھا
کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریان و دل جلا دیکھا
شاہ نیاز بریلوی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں