جمعہ، 22 مئی، 2015

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم


میں اور مجھ کو اور کسی دلربا سے عشق ؟

خیر الوریٰ سے عشق ہے خیر الوریٰ سے عشق
دنیا کی مجھ کو چاہ نہ اس کی ادا سے عشق
دونوں جہاں میں بس ہے مجھے مصطفیٰ سے عشق
وہ آخرت کی راہ کو ہموار کر چلا
جس کو بھی ہو گیا شہ انبیا سے عشق
کچھ اور مجھ کو کام نہیں اس جہان میں
اپنے نبی سے عشق ہے اپنے خدا سے عشق
دنیا کی دوستی تو ضیایع ہے فریب ہے
اسلام میں روا نہیں اس بے وفا سے عشق
سر میں سرور آنکھوں میں ٹھنڈک ہے دل میں کیف
جب سے ہوا دیار نبی کی ہوا سے عشق
دیوانائے رسول و علی و حسین کو
طیبہ کی دھن نجف کی لگن کربلا سے عشق
معراج بندگی کی تمنا میں رات دن
میری جبیں ہے در مصطفیٰ سے عشق
پہلے نبی کے عشق میں مدہوش ہو نصیر
پھر یہ کہے کوئی کہ مجھے ہے خدا سے عشق

شاہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ
****
تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی 
قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی 
ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی 
تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی 
ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ 
محتاج ہے یہ ساری خدائی ترے در کی 
انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا 
چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی ترے در کی 
مشرب ہے مرا تیری طلب تیرا تصور
مسلک ہے مرا صرف گدائی ترے در کی 
در سے ترے الله کا در ہم کو ملا 
اس اوج کا باعث ہے رسائی ترے در کی 
اک نعمت عظمیٰ سے وہ محروم رہ گیا 
جس شخص نے خیرات نہ پائی ترے در کی 
میں بھول گیا نقش و نگار رخ دنیا 
صورت جو مرے سامنے آئی ترے در کی 
تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا 
مر جاؤں تو ممکن ہے جدائی ترے در کی 
صد شکر کہ میں بھی ہوں ترے در کا 
صد فخر کہ حاصل ہے گدائی ترے در کی 
پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا
ہم نے جسے تصویر دکھائی ترے در کی 
ہے میرے لیے تو یہی معراج عبادت 
حاصل ہے مجھے ناصیہ سائی ترے در کی 
آیا ہے نصیر آج تمنا یہی لے کر 
پلکوں سے کیے جائے صفائی ترے در کی
شاہ نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اقوال زریں
نامور شخصیات کی سنہری باتیں
ایک بزرگ تھے.. ملک میں قحط پڑا ھوا تھا ' خلقت بھوک سے مر رھی تھی.. ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رھے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے..
بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ھنستا کھیلتا لوگوں سے مزاق کر رھا تھا.. بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے.. غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رھے ھیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رھی ھیں..
غلام نے بزرگ سے کہا.. " آپ اللہ والے لگتے ھیں.. کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ھوں..؟ "بزرگ بولے.. " تو کون ھے..؟ "
غلام نے جواب دیا.. " میں فلاں رئیس کا غلام ھوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ھیں.. کیا آپ سمجھتے ھیں کہ جو غیروں کا ' اس قحط سالی میں پیٹ بھر رھا ھے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا..???? جائیں.. آپ اپنا کام کریں.. آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی.. "
بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے.. بولے..
" یا اللہ ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا.. اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ھے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ھوں یہ مانتے ھوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ھے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ھے میں کتنا کم ظرف ھوں کہ حالات کا اثر لے کر نا امید ھو گیا ھوں..
بے شک میں گناہ گار ھوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ھوں اور اپنے گناھوں کے معافی مانگتا ھوں
حضرت علامہ ڈاكٹر محمد اقبال رحمتہ علیہ ایك عظیم فلسفی شاعر جنہیں نہ صرف برصغیر پاك و ہند میں جانا جاتا ہے بلكہ آپ كی فكری شاعری كی پوری دنیا معترف ہے . مذید پڑھیے

اردو کے ایک سو مشہور اشعار۔ نامور شعرا کے زبان عام اشعار کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے
انٹرنیٹ اور موبائل پر جدید تحقیق پر مبنی تازہ ترین معلومات پڑھنے كے لیے یہاں كلك كیجیے

كركٹ

كركٹ
پاكستانی كركٹ بلندی اور زوال تجزیے اور تبصرے